اے این پی کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس سےسیاسی رہنماوں کا خطاب

اے این پی کے زیر اہتمام کل جماعتی کانفرنس سے ایم کیو ایم کے رہنما بیرسٹر سیف کا خطاب

فاٹا میں اصلاحات لانا وقت کی ضرورت ہے

قبائلی عوام کو اپنے تقدیر کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے

اگر قبائلی عوام کے امنگوں کے مطابق فاٹا کے تقدیر کا فیصلہ نہ کیا گیا تو خدشہ ہے آنے والے دنوں کوئی نیا بحران شروع ہوجائے

سیاست سے بالاتر ہو کر فاٹا کے تقدیر کا فیصلہ کرنا ملک و قوم کے مفاد ہے

محمود خان اچکزئی 
ملک تمام پشتونوں کو ایک صوبے میں جمع کرنا تھا
اس وقت تقسیم کے وقت کے اعلان کے الفاظ میں فاٹا شامل نہیں تھا
پاکستان بننے سے پہلے خیبر ایجنسی بنی تھی
جب فاٹا کی ایجسنیاں بن رہی تھیں اس وقت پشاور اور موجودہ زیادہ تر کے پی کے پنجاب کا حصہ تھا
افغانستان کے باہر فاٹا اور بلوچستان کے کچھ علاقے دو الگ الگ پشتون صوبے تھے جن پر ایف سی آر نافذ تھا
تمام دنیا نے تماشے شروع کردیئے ہیں ہمیں عالمی پشتون کانفنرنس بلانی چاہئے
بتایا جائے فضل الرحمن اسفندیار اور آفتاب شیرپاو کو مارنے کوشش کیوں کی گئی
میں کسی کے کہنے پر نہیں کہہ رہا مگر اگر ہمیں زبردستی شامل کرنے کی کوشش کی گئی تو عالمی عدالت انصاف میں بھی جانا پڑے تو جانا چاہئے
مجھے قائل کرلیں دلیل کے ساتھ تو مان لوں گا
سینیٹر فرحت اللہ بابر پی پی پی
دودن پہلے کابینہ نے فاٹا تک اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی توسیع کا فیصلہ دیا
یہ پہلی کانفرنس ہے جس میں فاٹا انضمام کے مخالفین مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی بھی شریک ہیں
بہتر ہوتا محمود خان اچکزئی آزادی پاکستان اور جرگے کے ساتھ آئین پاکستان کے آرٹیکل ایک کے تحت پاکستان کا حصہ ہے کا حوالہ دیتے
کاش اچکزئی صاحب یہ بھی بتاتے کہ فاٹا پاکستان کا حصہ اپنی مرضی سے بنا
محمود خان نے بین السطور میں فاٹا کو پاکستان کا حصہ نہ مان کر ہمیں افسوس میں مبتلا کیا
جس طرح کی مخالفت مولانا فضل الرحمن نے کی ویسی میں نے بھی کی
فوجی عدالتیں بنا دی گئیں کسی نے مخالفت نہیں کی
انٹرمنٹ سنٹرز کالے کنویں ہیں جہاں جو گیا واپس نہ آیا
یہ کہنا غلط ہے کہ فاٹا والے قوانین نہیں مانیں گے
قبائل نے ایک شخص ایک ووٹ کے قانون کو مانا
خواتین کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے
وہاں مسجد اور محراب کے ساتھ ساتھ دوسرے بیانیہ کو بھی موقع ملنا چاہئے
فرحت اللہ بابر
عجیب بات ہے کہ پہلے پشاور ہائی کورٹ کی سفارش کی گئی اب اسلام آباد ہائی کورٹ کو شامل کردیا گیا
اسلام آباد ہائی کورٹ فاٹا کے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے
امریکہ ورجینیا میں بیٹھ کر فاٹا اڑاتا تھا اسلام آباد یہاں سے ریمورٹ کنٹرول کے ذرہعے قبایلئوں کو کنٹرول کرتا ہے
پاکستان اور امریکہ اب دنیا کے واحد دو ممالک رہ گئے ہیں جہاں قانون کے تحت لوگوں کے گھر گرائے جاسکتے ہیں
مجھے نظر آرہا ہے کہ فاٹا پر سی او او کے عہدے پر حاضر سروس جنرل کو لگایا جارہا ہے
اگر ایسا ہوا تو پھر ابھی اسلام آباد سے کنٹرول ہونے والا فاٹا راولپنڈی سے کنٹرول ہوگا
اگر فوجی جنرل لگایا گیا تو فاٹا کا بلیک ہول مزید گہرا ہوجائے گا
مولانا فضل الرحمن تقریر
قوموں کی زندگی میں فیصلوں کے مواقع آتے ہیں ایسے مواقع جلد بازی میں ضائع نہیں کئے جاتے
فاٹا کے معاملے پر کھل کر طویل بحث ہونی چاہئے جس پر اتفاق ہو اس پر عمل ہو
کیا یہ درست نہیں کہ آئین میں فاٹا کی الگ حیثیت موجود ہے
جب ایک بل قائمہ کمیٹی کے پاس ہے تو پھر کابینہ کو اسی پر نیا بل نہیں بنانا چاہئے تھا
فاٹا پر ایک نئے سی او او کی تقرری منفی اثرات سامنے لائے گی
دوہزار بارہ میں کے پی کے اسمبلی نے فاٹا کو ضم کرنے کی قرارداد منظور کی کیا آئینی طورپر صوبہ ایسا کرسکتا ہے
قبائلی دربدر ہیں ان حالات سے نکلنے دو پھر ہم سے ہمارے مستقبل کا پوچھو
ہم نے قبائلی جرگہ کیا مذاکرات کی پشکش کی گئی طالبان نے قبول کرلیا اسلام آباد نے حامی نہیں بھری
ہمیں جنگ کے بغیر مسئلہ حل کرنے کی بات کرنے کی سزا دی گئی
فاٹا الگ صوبہ ہو کے پی کے میں انضمام ہو سب کی رائے لے لو پھر حتمی فیصلہ کرلو
آزادانہ شفاف ریفرنڈم کرالیا جائے
محمود خان اچکزئی فاٹا کے حوالے سےجو رائے رکھتے ہیں وہ ان کی اپنی ہے
میری رائے مختلف آپشنز پر اتفاق کے حوالے سے ہے
فاٹا تک کسی بھی ہائی کورٹ کا دائرہ کار ایک قدم تو ہے حل نہیں
ہمارا سارا نظام تو تاحال انگریز کی وراثت کا چل رہا ہے
ہم پاکستان کے قانون کو اسلام اور آزادی کے مطابق بنانا چاہتے ہیں آپ اس قانون کو فاٹا پر لگانا چاہتے ہیں
اسفند یار ولی خان مجھے آپ سے گلہ ہے کہ آپ دوہزار بارہ میں فاٹا مسئلے کو متنازعہ بنایا اب پھر بنا رہے ہیں
اگر برطانیہ نے سکاٹ لینڈ کے لوگوں کو ریفرنڈم کرایا تو فاٹا میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا
فاٹا کی حیثیت جاننے کے لئے وہاں کے عوام سے پوچھا جانا ضروری ہے
اسفند یار ولی آج واضح کردیں کہ اگر فاٹا کی پی کے میں ضم کردیا جائے تو کیا وہ ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرلیں گے
یہاں اس مسئلے پر مباحثے کے لئے ایک کمیٹی بنا لی جائے
پروفیسر محمد ابراہیم جماعت اسلامی
جماعت اسلامی پاکستان کے پی کے میں فاٹا کو ضم کرنے کی حامی ہے
اے پی سی اعلامیہ جاری
سابق وزیر اطلاعات کے پی کے میاں افتخا ر حسین پیش کرتہے ہیں
اعلامیہ
فاٹا کو کے پی کے میں شامل کرنے میں تاخیر نہ کی جائے
اگلے الیکشن میں فاٹا کو صوبائی سیٹیں دی جائیں
اسلام آباد کی بجائے پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ فاٹا تک بڑھایا جائے
مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی نے اعلامیہ سے اتفاق نہ کرتے ہوئے دستخط نہیں کئے میاں افتخار حسین
اسفند یار ولی خان خطاب
آرٹیکل ایک کے تحت فاٹا جب پاکستان کا حصہ ہے تو میں نے کہاں ڈیورنڈ لائن کی مخالفت کی ہے
جب آئین نے افغانستان کے بارڈر طے کردیا تو میں کون ہوتا ہوں دوسری بات کرنے والا
فضل الرحمن اور محمود خان نے فاٹا اصلاحات کمیٹی کی مخالفت نہیں کی اب کیوں کررہے ہیں
فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی حکومت اور اپوزیشن کے ایک ٹکٹ کے دو مزے نہ لیں
جب تک فاٹا کو کھولیں گے نہیں مسئلہ حل نہیں ہوگا
آج ان کو ردالفساد یاد آیا جب ہم کہتے تھے تو ہمیں غدار کیا گیا
خطے میں نئے اتحاد ہورہے ہیں
اب نئی سپرپاورز ابھر رہی ہیں
جب تک خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر اتفاق نہیں ہوگا مسئلہ حل نہیں ہوگا
چار میں سے تین ہمسایہ ممالک ہمارے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں
مولانا فضل الرحمن نے وعدہ کیا ہے کہ اگلی اے پی سی وہ بلائیں گے جس میں پارٹیوں کی قانونی ٹیمیں بھی شامل ہوں گی
ہر سیاسی مسئلے کا حل بات چیت سے ممکن ہے
مولانا فضل الرحمن اے پی سی بلائیں اے این پی اپنی لیگل ٹیم بھیجے گی
میں بالکل واضح ہوں کہ ایف سی آر بھی ختم نہیں ہورہیں
کابینہ کے حالیہ فیصلے پر بھی عمل نہیں ہوگا
جنوبی اور شمالی پختونخواہ کا ادغام بنیادی منزل ہے جو پنجاب کے سامنے ڈٹ سکے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s