وزیرصحت اور وزیراعلی خیبرپختونخواہ سے اپیل

میں ایک انصافین ہوں۔ اور میں پہلے بار کے پی کے گورنمنٹ کی خلاف بولنے پر مجبور ہوا ہوں۔

کل میرے ساتھ پشاور کی سب بڑے تدریسی ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ اور میں یہ واقعہ حلفا بیان کر رہاہوں۔

کل بروز جمعرات بمورخہ 07.09.2017 بوقت 9:30 بجے کچھ یوں ہوا کہ میرا ایک دوست جس کی بلڈپریشر کم ہوچکی تھی جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو کر گر گیا تھا۔ اس کے گھر سے مجھے فون آیا کہ ہم ایل آر ایچ ہسپتال میں ہے۔ آپ آجائے۔

جب میں ہسپتال پہنچا تو میڈیکل ہال (میل) ایمرجنسی میں صرف ایک ہاوس آفیسر ڈاکٹر موجود تھا۔ اور اندازے کی مطابق اس کی اردگرد تقریبا 100 سے مریض کھڑے تھے اور بعض سٹریچر پر بھی پڑے تھے۔

جب میں نے ڈاکٹر سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آج اس ہال میں صرف میں اکیلا ہو۔ باقی جو ۳ ٹی ایم اوز ڈاکٹر جو اس ہال میں آج کے لئے تعینات ہیں۔ وہ غیر حاضر ہے۔ اور میں اکیلے اتنی ذیادہ مریضوں کو کس طرح ڈیل کروں گا۔ آپ جا کہ DM سے بات کریں۔ 

میں DM آفس گیا اور اس سے نہایت احترام کے ساتھ بات کی۔ اور مریضوں کا مسلئہ ان کے سامنے رکھا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ آپ جا کہ ڈاکٹر صاحب سے کہیں کہ آپ ان ڈاکٹر کو فون کریں جو آج غیر حاضر ہے۔ 

تقریبا ایک گھنٹہ انتظار کے بعد میں دوبارہ DM آفس گیا تو انہوں نے کہا کہ میں آرہا ہوں۔

30 منٹ کی انتظار کے بعد میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔ کیوں وہاں ایمرجنسی میں سینکڑوں مریض تڑپ رہے تھے۔ 

تو میں نے موبائل نکال کر ویڈیو شروع کی۔ اور میں نے ارادہ کیا کہ یہ ویڈیوں میں CM compliant Cell میں جمع کرو گا اور ساتھ ساتھ Citizen portal پر بھی اپ لوڈ کروں گا۔ تاکہ مریضوں کا یہ دیرینہ مسلئہ حل ہوسکے۔

جو ہی میں نے ویڈیو سٹارٹ کی تو وہاں پر موجود سیکورٹی اہلکار نے مجھ سے موبائل چین لی۔ اور مجھے کہا کہ یہاں ہم میڈیا والوں کو بھی اجازت نہیں دے ریے۔

اور میرا موبائل لے کر DM آفس لے گیا۔ 

جب ہم DM آفس گئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اگر یہاں ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ تو آپ اپنا مریض اٹھا کر دوسرے ہسپتال لے جائے۔ اور میرے موبائل سے وہ ویڈیو اپنے ہاتھوں سے ڈیلیک کی۔ 

اس واقعے کی بعد میں بہت مایوس ہوا۔ کیونکہ صحت کے پیشے سے میرا بھی تعلق ہے۔ اور وہاں پر موجود غریب مریضوں پر بہت ترس آکر یہ پیغام لکھ رہا ہوں۔

اور Health Department سے درخواست کر رہا ہوں کہ میڈیکل میل ہال (ایمرجنسی) میں جو ڈاکٹر غیر حاضر تھے ان کے خلاف کاروائی کریں۔ اور متعلقہ DM کے خلاف بھی ایکشن لی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s