کلیم ظاہر کا پختونخوا تعلیمی ڈھانچے پر مضحکہ خیز تجزیہ

تعلیمی ایمرجنسی کے 4 سال گزر گئے تعلیم ابھی تک ایمرجنسی میں موجود ہے اور کل کی بات ہے ٹیسٹ رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کے تعلیم کی صحت انتہائی خراب ہے ۔ حکومت کو چاہیے کے تعلیم کو یا تو بروقت ICU شفٹ کر دیتے لیکن بہت دیر ہو گئ ہے پشاور بورڈ کے ٹاپ 20 لسٹ کے 82 طلبہ و طالبات میں سرکاری اسکول کا ایک بھی سٹوڈنٹ شامل نہیں۔اور ہمارے وزیر تعلیم فرماتے ہیں کے لوگ بچوں کو پرائیویٹ سکول سے نکال کر سرکاری سکول میں داخل کروا رہے ہیں۔ سنا ہے کے انکے اپنے ڈسٹرکٹ مردان کے ایک اسکول میں پورا سکول فیل ہوگیا ہے۔ اور موصوف عمران خان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے کبھی نتھیا گلی تو اب چترال میں ہے۔ 

حالانکہ امتحانی عملہ سرکاری اساتذہ پر مشتمل ہوتا ھے ۔ بورڈ میں پیپرز سرکاری اساتذہ سے چیک کرواے جاتے ہیں۔

ھمارے وقت میں میٹرک کے کل نمبر 850 ہوا کرتے تھے مجھے یاد ہے جب میں نے میٹرک پاس کیا تو پورا صوبہ 692 نمبرز سے ٹاپ ہوا تھا۔ ھمارے پرنسپل عتیق لرحمن صاحب تھے انہوں نے ہمیں کہا تھا کے جس لڑکی نے بورڈ ٹاپ کیا ہے وہ بورڈ چیئرمین کی بیٹی ہے اسلیے اتنے زیادہ نمبرز آے ہیں۔ 

اب تو یہ حال ہے کے ہر لڑکا ، لڑکی چیئرمین کی بیٹی ہے اور ہر حال کا برا حال ہے۔ 1100 میں سے 1051 نمبرز لینا کوئی بڑ ی بات نہیں۔ حلانکے میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کے جن طلبہ نے اتنے زیادہ نمبرز لیے ہیں انکے اساتذہ سے بھی ایک امتحاں لیا جائے تو وھ بھی اتنے نمبرز نہیں لے سکتے۔ 

سن 2000 میں پشاور کے طلبہ کے ساتھ ایک مسلہ ہوتا تھا چونکے باقی ڈسٹرکٹ کے بورڈز نمبرز زیادہ دیتے تھے اور پشاور بورڈ کی چیکنگ بہت سخت ہوتی تھی تو جب میں اسلامیہ کالج میں داخلہ لے رہا تھا تو پہلے 600 لڑکوں میں صرف 14 لڑکے پشاور بورڈ کے تھے باقی آوٹ ڈسٹرکٹ کے تھے۔ جسکا اثر آج میں محسوس کرتا ہوں آج میں جس ڈیپارٹمنٹ میں جاتا ہوں تو وہاں پر Key Post پر آوٹ ڈسٹرکٹ کا بندا ہوگا۔ 

 کالج میں ایڈمشن کے لیے اینٹری ٹیسٹ لازم قرار دینا۔

 اور سرکاری اساتذہ کی بھرتی میں یہ اسائنمنٹ (علامہ اقبال یونیورسٹی سے جو کورس کیے جاتے ہیں، یا خود ہی ہو جاتے ہیں ) پاس لڑکوں کو بھرتی کرنے کے بجایے کم اذ کم تعلیم میں میریٹ پر تعلیم یافتہ لوگوں کو بھرتی کرنے سے ہی تبدیلی ممکن ہے۔ ورنہ بہت جلد ہماری تعلیمی نظام کا جنازہ نکلنے والا ہے۔  

 ہم گھر سے نکلتے تو سپرٹنڈنٹ سے پہلے والد صاحب دھمکی دیتے کے نقل نہیں کرنا۔ اب تو باپ خود پہلے یہ معلوم کرتا ہے کے کس سکول کا اپناامتحانی حال ہے کے نہیں کیونکے وہاں ڈسکاؤنٹ بہت ہوتا ہے۔    

میں موجودہ حکومت پر اسلیے تنقید کرنا چاہتا ہوں کے ان لوگوں سے عوام کو بہت امید تھی ہاں کچھ کام اچھے بھی کیے ہیں لیکن جب دن بھر ٹک ٹک کی آواز آرہی ہو اور شام کو آپکو بتایا جائے کے مزدور نے سارا دن ایک ٹیڑھی کیل نکالنے میں لگا دیا تو اسکا مطلب تو یہ ہوا کے  

Work Done Progress Nil

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s