کچھ کٹھا کچھ میٹھا

اگر اجازت ہو تو لکھوں ؟
چند دن قبل ہمارے ایک سینئر و معزز صحافی جو کہ مشرق جیسے ادارے سے وابسطہ ہیں جہاں کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی کرسی بچانی بھی ڈیوٹی کا ایک اہم حصہ گردانا جاتا ہے، ایک خبر فائل کی تھی جو کہ فاٹا سیکرٹریٹ کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ملنے والی اطلاعات و معلومات پر مبنی تھی جس کا ڈائریکٹ اثر اساتذہ کی روپ میں صحافت کرنے والے صحافیوں پر تھا اور بالخصوص ان صحافیوں پر جو کہ اپنی صحافت کی آڑ میں اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو ڈرا دھمکا کر نہ صرف اپنی ڈیوٹیوں سے غیرحاضر رہ کر قوم کے معمار کے نام پر ایک دھبہ بنے رہے بلکہ کئی بیرونی ممالک کی سیر بھی کرچکے ہیں،
خبر چاپنے کے بعد سماجی رابطوں کے ویب سائٹ فیس بک پر طنز، دھمکیوں اور خبر کی صداقت پر اٹھنے والے سوالات کا ایک ایسا سلسلہ چلا جس نے خیبر ایجنسی میں اساتذہ کے بھیس صحافت کرنے والوں کیلئے آ بیل مجھے مار والی صورتحال پیدا کی۔ چند لمحات کیلئے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے ایجنسی کے سارے اساتذہ ہی صحافی ہیں۔ موصوف صحافی جس سے سٹوری فائل کرنے کی جان بوجھ کر غلطی سرزد ہوئی تھی مجبور ہوگئے کہ اس گیم میں تھوڑی اور سنسنی ڈالے لیکن شکر ہے کہ اساتذہ کا ٹولہ یہ دیکھ کر خاموش ہوگیا کہ لکئ مو اوور واغستو۔
آخر کار یہ صحافت میں ایسا کیا ہے کہ ٹھیک ٹھاک سرکاری نوکری کرنے والے اپنی تنخواہ حرام کرنے کیلئے اس کا رخ کرتے ہیں یا پھر خیبر ایجنسی کی صحافت میں ایسا کونسا گیدڑ سنگے ہے جس کے پیچھے سب بھاگتے ہیں۔
ہاں یہ درست ہے کہ فاٹا میں صحافت کرنے سے آپ رات و رات نہیں لیکن جمعہ جمعہ آٹھ دن میں اچھے پیسے کماسکتے ہیں، لیکن کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ وہاں صحافت کیا ہے اور کیسے ہوتی ہے، ؟
ایک ایسا صحافی جو کہ بالکل نہ پیسے لیتا ہو، نہ ڈرتا ہو اور نہ جھکتا ہو تو کیا وہ ایک ایسے علاقے میں جو کہ پاکستان کا وہ حصہ ہے جہاں پاکستان کا آئین ہی موجود نہیں، میں کام کرتا ہو محفوظ رہے گا، قبائلی علاقوں میں انتظامیہ ہی حرف آخر ہے، وہاں پولیس، جج، سب ہی انتظامیہ ہے۔ صحافت جب صحیح معنوں میں کی جائے تو ریاست کا چوتھا ستون اسی لئے کہلاتا ہے کہ ریاستی اداروں کو اپنے ٹریک پر رکھنے کیلئے ان کی غلطیوں اور خرد برد کو بیان کرے۔ لیکن اگر قبائلی علاقوں میں انتظامیہ کیساتھ ٹکر لی جائے تو بہت مہنگی پڑتی ہے اور یہ بات میں نہیں جانتا اور نہ آپ جانتے ہیں بلکہ وہ قبائلی صحافی جانتے ہین جو بگت رہے ہیں۔
انتظامیہ کے بعد نمبر آتا ہے پریشر گروپس کا جن میں مسلح و جنگجو گروپس کیساتھ کیساتھ مختلف سٹیک ہولڈرز شامل ہیں، اگر صحافی ان سے بھی ٹکر لیلے تو اس کا جینا مشکل ہوجاتا ہے اور اس کی کافی ساری مثالیں اور تصاویر ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے دفتر میں آویزاں ہیں۔ اس کے بعد قبائلی علاقوں میں خاکی وردی میں ملبوس پاسداران پاکستان اور بائی ڈیفالٹ شہدا بھی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں جن کو پاکستان میں آج تک کوئی چیلنج نہ کرسکا تو قبائلی صحافی کیا چیلنج کرےگا اور مجبورن ان ہی کے حق میں لکھے گا۔ اس کے علاوہ ماشآللہ قبائلی صحافیوں کی آپس میں ایسی ہی بنتی ہے جیسے عمران خان اور نوازشریف کا ساتھ ہے جس کی وجہ سے بھی ان کو کافی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
اب ایسے صورتحال میں جہاں آپ کا ادارہ آپ کو بریکنگ نیوز کیلئے فون کرکرکے پاگل کرتا ہے لیکن مہینے کے آخر میں تمہیں ادارے کی جانب سے شاباش تک نہیں ملتی تو کیا صحافی مٹی کھا کر گزارہ کرتے ہیں ؟
صحافی کے بیوی بچوں کا پیٹ بھی مٹی ہی سے بھرتا ہے ؟
کیا وہ جینے کا حق نہیں رکھتے، وہ کھانے پینے سے قاصر ہیں ؟
طالبان حضرات اکثر نچنیوں اور گنوئیوں کو کہتے تھے کہ آپ یہ کام چھوڑ دیں اور انہوں نے چھوڑ بھی دیا لیکن ان کو متبادل روزگار نہیں دیا گیا اور طالبان کے جانے کے بعد انہوں نے پھر اپنے کام کو دوام بخشا، جب مقامی صحافی کو کوئی ادارہ تنخواہ، سہولیات یا مراعات نہیں دیتا تو پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جو صحافی انتظامیہ و دیگر سے پیسے لیتے ہیں غلط کرتے ہیں ۔۔
چلو مان لیا میرے دوستوں نے پیسے لئے، ایم این اے سے لئے، سینیٹر سے لئے، تاجر سے لئے، خاصہ داروں سے فی چیک پوسٹ لئے، پی اے، اے پی اے پولیٹیکل تحصیلدار سے لئے، مختلف تنظیموں سے لئے،،، فیس پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے پر لئے یا پھر اپنے اداروں میں خبر چلانے پر لئے لیکن مان لیا اس نے پیسے لئے،،
فرض کریں ہمارے صحافی دوست ان سے پیسے نہ لیں ؟
تو کیا پی اے بھوکا سو جائے گا کہے گا کہ آج تو وہ فلاں نے پیسے نہیں لئے اس سے اظہار یکجہتی کیلئے بارڈر سے جو کمائی آتی ہے وہ میں نہیں لیتا،
کیا سمگلنگ کرنے والے سمگلنگ بند کردینگے کہ یار صحافی برادری بھوکی سورہی ہے ہم بھی ان کے اور ان کے بچوں کے غم میں بھوکے رہینگے
کیا صحافی کیلئے مسجد اور مدرسے کے مولوی کی طرح کوئی وظیفہ لیکر جائے گا
کیا صحافی کے بچے کو کوئی مفت میں تعلیم پڑھائے گا ؟
کیا صحافی کو حکومت حیات آباد میں پلاٹ اور گھر دے گی ؟
کیا صحافی کے غم میں ایجنسی انتظامیہ جنہوں نے کروڑوں روپے دیکر یہاں پوسٹنگ کروائی ہے اپنی ناجائز کمائی روکھ دے گی،،، ؟
نہیں، کبھی بھی نہیں،، بلکہ ان کے تو اور بھی وارے نیارے ہوجائینگے کیونکہ انتظامیہ اور سمگلرز جو کماتے ہیں اس کا اعشاریہ ایک فیصد ہی تو صحافیوں کو بروقت ادا کرتے ہیں اور یہ شائد ان کیلئے ایک درد سر بھی ہے ورنہ یہ پاکستانی مسلمان تو ملک ہی بیچ ڈالیں
البتہ اگر ان صحافیوں کو تنخواہیں آفر بھی کی جائیں اور کچھ تو اساتذہ کی شکل میں لے بھی رہے ہیں لیکن وہ تو ان کو سوٹ نہیں کرتا اس میں چند قباحتیں ہیں جیسا کہ وہ بینک پہ آتی ہیں اور اسکا ٹریک ریکارڈ موجود ہوتاہے اور اسکی مقدار بھی کافی کم ہوتی ہے بلکہ اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ ایک چیک پوسٹ سے ماہواری یا ہفتہ آتا ہے۔ دوسرا انتظامیہ و دیگر سے لینے والے پیسے بسا اوقات بلکہ اکثر اوقات بڑھتے ہی رہتے ہیں اور ان کو اگر زیادہ ہی خوش رکھو تو نوازنے میں کنجوسی نہیں کرتے، حکومت اور میڈیا اداروں سے پیسے لو تو ان کے خلاف نہ تو بول سکتے ہو نہ لکھ سکتے ہو، لیکن انتظامیہ و دیگر سے پیسے بھی لو اور جب موڈ زیادہ خراب ہو تو اسکے خلاف ایک آدھ خبر یا فیس بک سٹیٹس اپ ڈیٹ کرکے اپنی رقم بڑھاسکتے ہیں جبکہ سرکار کے معاملے میں تنخواہ بڑھانے کیلئے بندہ رل جاتا ہے،،،
انتظامیہ سے پیسے لینے میں ایک بات یہ بھی ہے کہ انتظامیہ کی آمدنی کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے اور اس میں بڑھا چڑھاکر حصہ مانگا جاسکتا ہے۔ کچھ صحافی ان پیسوں کے پیچھے بلی بن جاتے ہیں اور کچھ تو ایسے ہیں جن کو گھر بیٹھے بیٹھے باعزت طریقے سے ملتے ہیں۔ کچھ لوگ پی اے اور اس کے وفاداروں کی چمچہ گیری سے کماتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ان کے کھالے دندے اور ناجائز آمدنی کا پردہ چاک کر حصہ مانگتے ہیں، لیتے تو سب ہی ہیں لیکن کچھ مانگتے ہیں اور کچھ بتہ لیتے ہیں۔
میرے اس بلاگ کا مقصد ہرگز کسی صحافی کی عزت کو اچالنا یا مجروح کرنا نہیں بلکے ایک کاوش ہے کہ صحافیوں کے مسائل کا احسن طریقے سے احاطہ کیا جائے۔۔۔۔ بہرحال سب کے علاوہ اللہ بھی معافی کرے ،،،

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s