گستاخ رسول سے متعلق دلچسپ واقعہ

میرا دوست پھٹیچر تپے ہوئے لہجے میں تھا…شاید کب کا مجھے ڈھونڈ رہا تھا۔…

دور ہی سے مجھے دیکھ کے آوازیں مارنے لگا…

اوئے قادری… اوئے قادری کے چیلے… اوئے سُن…

میں نے مُڑ کے دیکھا تو پوچھا ہاں پھٹیچر خیر ہے ??

بولا…

اوئے تیرا قادری ہے ہی گستاخ __ قسمے پکا گستاخ 

میں نے کہا اوئے ہاں واقعی __ لیکن وجہ تے دس ??

کہنے لگا …

پہلے وی اُس نے غازی ممتاز قادری کی حمایت نہیں تھی کی اور اب بھی دیکھ اُس #مردان والے گستاخ لڑکے کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے اُس نے ٹویٹ پہ __ میں نے ابھی پڑھا ہے…

پھر کہنے لگا…

گستاخ رسولﷺ کی سزا ــــــ سـر تن سے جدا 

جو بھی گستاخی کرےگا ایسے ہی مرے گا جو نا مارے وہ بھی گستاخ ہے 

مین نے کہا…

ہاں یار میں تم سے ایگری ہوں یار ۔۔ چل آ میرے ساتھ چل…

بولا اوئے کہاں ?

میں نے کہا، کل 3,4 وہابی آقاﷺ کی شان میں گستاخی کررہے تھے گلی میں، میں نے خود سُنا۔ چل آ اُنھیں قتل کریں۔

کہتا واقعی یار ?? چل فیر…

میں کہا سُن وہ ایک اور بکواس بھی کررہے تھے ۔

کہتا اب وہ کیا……??

میں نے کہا وہ ہم سُنیوں (اُنکی نظر میں شرک کرنیوالے) کو مشرک کہہ رہے تھے۔ اور کہہ رہے تھے کہ مشرکوں کو مارنا حق ہے جہاد ہے آو جہاد کریں۔

کہتا اوئے یہ کیا کہہ رہا ہے پاگل ہے کیا ۔ میں اور مشرک ہاہاہا

میں نے کہا… 

یار میں خود سُنا وہ کہہ رہے تھے اور جیسے ہم انھیں گستاخ کہتے ہیں

کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا…

 واقعی یار کہیں وہ ہمیں نا ڈھونڈ رہے ہوں۔اس طرح تو شعیہ بھی کافر ہوئے، ہم اُنکی نظر میں مشرک ، اور اور وہ گستاخ۔

اس طرح تو سب ایک دوسرے کو مار ڈالنے والے ہیں۔اب کیا ہوگا اس طرح تو کوئی بھی نہیں بچے گا اس طرح تو امن تباہ ہوجائے گا ??

میں کہا ابے پھٹیچر سُن …

اب ہوگا یہ کہ ہمیں واپس پھر انسان بن جانا چاہیئے نا کہ خدا۔ گستاخ ، مشرک ، کافر بنانے کا اختیار بس خدا کو ہے جو ہم نے لےلیا ہے۔

اور گستاخ کی سزا واقعی موت ہے جو ہمارے آقاﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کرے لیکن اُسے قانون کے حوالے کرو پہلے چھان بین ہو پھر کوئی سزا کا حقدار ہوتو اُسے سرِعام سزا دو…

ہمارا دین امن کا دین ہے نا کہ ایسا جیسا کل اُس لڑکے کے ساتھ درندہ صفت اور وحشیانہ سلوک کیاگیا اُسے دیکھ کر کون مسلمان ہوگا اور اسلام کا کیا پیغام جائیگا دنیا میں?۔اسلام نے کہیں بھی ایسی اجازت نہیں دی بلکہ امن کی مثال اس سے بڑی تجھے کیا دوں کہ آقاﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبانے والی عورت کو جب سزا کیلئے پیش کیاگیا تو آقاﷺ نے معاف کردیا، کوڑا پھینکنے والی عورت کو معاف کردیا اور ویسے بھی مردان والے لڑکے کیخلاف کوئی گستاخی کا ثبوت نہیں مل سکا۔اب اگر وہ بےقصور نکلا تو کیا وہ واپس آجائے گا ??

کہتا ہاں یار…

تو سہی ہے پہلے پوری چھان بین ہونی چاہئیے ہر گستاخ کی پھر ہی سزا دینی چاہئے __ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s