فاٹا اصلاحات،چند حقائق، دوست راحت شنواری کے قلم سے

کیا لاکھوں کی تعداد میں غریب قبائلی عوام ہر مہینے ہزاروں روپے کا بجلی کا بل دے سکتے ہیں ؟ کیا سکینر میں سامان کی جگہ خود گزرنے والے سیدھے سادے قبائلی عوام سستا جرگہ کی جگہ مہنگا اور پیچیدہ وکلاء کے بھاری بھاری فیس برداشت کر سکتے ہیں ؟ 

کیا غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے قبائلی عوام ہر مہینے گیس ، پانی اور چوکیداری کے بلز سمیت دیگر انکم ٹیکس دے سکتے ہیں؟ 

کیا مظلوم قبائلی عوام ایم پی ایز کی شہ خرچیاں اور پولیس ، تھانوں اور کچہریوں کی بے انصافیاں برداشت کرسکتی ہیں ؟ 

کیا فاٹا کے لوگ اپنی ہی جائیداد پر پراپرٹی ٹیکس دے سکتے ہیں ؟ 

کیا لاچار قبائلی عوام سرکاری دفتروں میں انگریزی بولنے والے بیوروکریٹس کا سامنا کر سکتے ہیں ؟ 

کیا قبائلی طلباء و طالبات کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے بعد اوپن میرٹ پر مقابلہ کرسکتے ہیں ؟ 

کیا فاٹا کا عام آدمی جو بڑی مشکل سے اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کماتا ہے ، وہ ود ہولڈ ٹیکس اور آمدن ٹیکس دے سکتا ہے ؟ 

اگر ان سب سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پختونخوا کے ساتھ شامل ہونے والے انضمام کا پیچھا چھوڑ کر آرام سے پی ایس ایل کے میچز دیکھے 

اور اگر ان سوالات کا جواب ہاں ہیں تو پھر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کو فاٹا میں ضم ہونا چاہئے ۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کالے قانون ایف سی آر کا خاتمہ کیا جائے مگر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے غریب قبائلی عوام پر بہت بوجھ پڑیگا۔

#فاٹا میں اصلاحات بہت ضروری ہے 

#مگر خیبر پختونخوا میں انضمام ضروری نہیں ہے 

#دیہاتی صحافی راحت شنواری خیبر ایجنسی فاٹا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s