ہمکلامی

کہتے ہیں ایک ملنگ نے کسی شیخ صاحب سے پیسے مانگے تو شیخ صاحب ملنگ کو نویں چھت پہ لے کر کہتا ہے معاف کرو بابا۔ ملنگ کی نہ جانے کتنی خواہشات دل میں آئی ہونگی اس نے کیا کیا نہیں سوچا ہوگا وہ بڑی امید سے شیخ صاحب کے ساتھ سیڑھیاں چڑھا ہوگا لیکن اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ شیخ صاحب کے پاس تین الفاظ ہیں معاف کردو بابا اور کچھ بھی نہیں۔ زندگی میں کئی چیزیں اپنی تئیں ہم فرض کرلیتے ہیں اور اپنے ہی تجزئے کے مطابق ہم مانتے بھی ہیں کہ یہی درست ہوگا جو کہ درحقیقت ہماری خوش فہمی یا پھر غلط فہمی ہوتی ہے۔ جسے ہم نے کبھی دل میں بھی نہیں مانا سرعام تو دور کی بات۔ یہ ایسی ہی فلسفیانہ باتیں ہیں جسے ہم کرتے تو ہیں لیکن سمجھ نہیں پاتے۔ کئی طرح کے حالات ہوتے ہیں جن سے بندے کو گزرنا پڑتا ہے۔
کبھی سارے آپشنز کھلے ہوتے ہیں اور کبھی ایک ہی آپشن ہوتا ہے جو کہ اکثر چلتا بھی نہیں اور چل بھی چائے تو آپشن تو آپشن ہی ہوتا ہے اور دنیا میں ایک ہی چیز مسقل ہے اور وہ ہے تبدیلی۔ تبدیل کرو اس سے پہلے کہ تمہیں تبدیل کیا جائے۔ یار کچھ لونگ فرینڈز ہوتے ہیں جنہیں بندہ لور سے بھی زیادہ چاہتا ہے لیکن ان میں کسی کو لوور جتنا نہیں چاہتا۔ انسان کے تشخص کی عمارت نہ تو زلزلہ پروف ہے اور نہ ہی نظر پروف ۔۔ اس نے کہیں نہ کہیں پہ نظر آنا ہوتا ہے۔ اگر تم اسے اپنے بڑی انکھوں کے گرد بننے والے سیاہ حلقوں میں چھپا بھی لو گے تو وہ سیاہت کا روپ دھار کر نظر ائے گی۔ زلفیں کھلی چھوڑ کر اگر اندر کے طوفان کو مستی کا نام دو گے تب بھی کہیں نہ کہیں تیرے قول و فعل میں تضاد نوٹ ہوگا۔ کسی کی چوائس کو فالو کرکے اسے باور کرانا کہ تیرے کہنے پہ نہیں کیا اور پھر دل ہی دل میں خوش ہونا کہ چلو راز راز ہی رہا۔۔۔ اگلے بندے کو تیرے ہچکچاہٹ سے اندازہ ہوگیا۔ کسی کو اپنے قریب لا کر اسے اتنا دور لے جانا کہ اپنا خود بھی بھول آئے اور پھر اسی بھٹکے ہوئے بندے کو بھٹکا بھٹکا کر سیدھے راستے پر لانا اتنا ہی معقول ہے جتنا کہ انا کی آڑ میں آکر بندہ غلطی ماننے کی بجائے اسے جائز کرنے میں لگا رہے۔ انسان بہت ہی بے حس ہے۔بھلا وہ کیسے۔۔۔ وہ ایسے کہ کسی کے سنگ میں رہ کر اسکی دل کی آہٹ تو سن لیتا ہے، اسے پرک بھی لیتا ہے لیکن اسے محسوس ہونے نہیں دیتا کہ سکریننگ ہورہی ہے۔ شرارہ وجود کو ململ میں سمیٹ کر بہروپ کی چادر اوڑھنے والوں کتنا مزہ آتا ہوگا کسی کے احساسات کی چتا بنا کر ایک انکار میں سمیٹ لینا۔ یا پھر شائد اسکے منہ وہ زبان نہیں جو کہ خود اقراری کا زریعہ بن سکے۔ وہ ہمیشہ سے تم کو ایک آپشن ٹریٹ تو کریگا لیکن احساس تمہیں یہ دے گا کہ تم اسے ایک آہپشن کے طور پر استعمال کر رہے ہو۔
ہم دنیا میں کیا کرتے ہیں؟
اچھے اچھے جگہوں، اور شخصیات کے ساتھ سلفیاں بناتے ہیں، اسے شئیر کرتے ہیں اور پھر ڈیلیٹ بھی کردیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک بندے کا چیپٹر ختم۔ کیا یہ سب کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ اس کا کہنا۔۔ ضرور ہوگا نہ ہوتا تو یہ سب ہوتا نہ۔۔۔۔
انسان کو اوروں میں انتخاب کرکے اتنا مخصوص اور نمایاں کردیتے ہیں کہ لوگ اسے ہمارے شخصیت کا حصہ گردانتے ہیں لیکن اس بندے کو جب ہم زمین بوس کرتےہیں کیا مزہ ہے اسکا۔۔۔ ہاں نا اسی میں تو مزہ ہے۔۔ نہ ہوتا مزہ تو لوگ کیوں کرتے۔۔۔
تمہاری نازو ادا کو طول دے کر اپنے ناز و نخرے چھوڑدوں تمہیں احساس دوں کہ تم کو فالو کررہا ہوں اور پھر تم خود ان فالو ہوجاو یہ تاثر دے کے کہ میں ایسا نہیں ہوں۔ پیرودھائی میں ایک گاڑی والا مردان اور پشاور دونوں کے سواریاں بٹھاتا ہے نوشہرہ پہنچ کر مجھے کہتا ہے آجاو تمہیں مردان والی گاڈی میں بٹھاوں۔۔؟ ارے بھئی کیوں جب مردان جانا ہی نہیں تھا تو  بٹھایا کیوں۔۔۔ وہ جی بس میرے سے انکار نہیں ہوتا کسی کو۔۔۔ ارے تو پھر مردان جانے سے کیوں انکار کرتا ہے۔۔۔ نہیں نا۔۔۔ جانا تو پشاور ہیں۔۔۔ ہم پنڈی سے نوشہرہ تک اچھے دوست نہیں رہ سکتے کیا ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
لائف میں پہلی کسی کے ساتھ ایسا کیا ہے وہ بھی صرف تمہارے ساتھ۔۔۔۔ کسی اور کے ساتھ کر کے تو دیکھ۔۔۔۔۔؟ ہاتھ تھمادیااور ساتھ میں کہا ہاتھ میں درد ہے ۔۔۔ قریب سے قریب تر لے جا کر کہتے ہو مجھے ٹچ نہ کرو۔۔ غم سے تو نڈھال ہو تم سینے پر سر رکھنے کو دل بھی ہے تہمارا چاہتے بھی ہو کہ کوئی تیرا ساتھ دے تو پھر ددکارتے کیون ہوں۔۔۔ کیا دنیا میں تیرا درد ہے، تیرے جذبات ہیں یا پھیر صرف تم ہی سب کچھ جانتے ہو۔۔۔ میں بھی جانتا ہوں۔۔۔ میرے بھی جذبات ہیں وہ الگ بات ہےتم نے مجروح کردئے۔۔۔ میں سب کچھ جانتا ہوں وہ الگ بات ہے جو بات میں جانتا ہوں تم اسے چھپاتے ہو۔۔۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے وہ الگ بات ہے کہ تیرا غصہ ہر وقت اور میرا کبھی کبھی ہوتا ہے لہٰذہ تمہارا ٹھیک ہے میرے والہ برداشت نہیں ہوگا۔
میرے نخرے ہر کوئی نہیں اٹھا سکتا۔۔۔ ہر کوئی والی کیٹیگری میں ڈال ہی لیا اب نخرے بھی سمجھاو ۔۔ نہیں جی میں سیدھی سادھی لڑکی ہوں میرے میں یہ نخرے وخرے نہیں۔۔۔۔ میں محبت کا اظہار کروں تو کروگی محبت ؟ تم کرو تو۔۔۔۔ ہاں کرونگی۔۔۔ اظہار بھی کیا،،،،،،، اگلے سال۔۔۔۔۔ کیسی محبت کہاں کی محبت ،، میں نے تو تمہیں اسی وقت کلئیر کردیا تھا کہ وی آر گڈ فرینڈز۔۔۔ اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔ میں سلمان خان اور ابرارلحق کی طرح ہوں سپنے میں آتا ہوں سمجھ میں نہیں ۔۔۔
منہ کیوں بنایا ہے۔۔۔ اتنے برے لگتے ہو تم یہ منہ بنا کے۔۔۔ یار میں منہ نہیں بنا رہا بس طبیعت ایسی ہے ۔۔۔ سب لوگ انتظار کررہے ہیں۔۔۔
ٹہرو پہلے مجھے کس کرو پھر جاو۔۔ نہیں میں نہیں کرونگا کس۔۔۔
اوممممممممممممما
پتہ نہیں کس نے کس نیت سے کس کا کس لیا ہے۔
آپ کو کچھ پتہ چلا نہیں نا۔۔۔ یہی تو ہوتا ہے لوگوں کے ساتھ لیکن کسی کو پتہ کب چلتا ہے۔۔۔۔ لولز۔۔
ڈرامہ دیکھنے کا شکریہ
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s