لوٹے سے مسلم شاور تک کا سفر

Lota(زندہ ہے لوٹہ زندہ ہے)

 (اکیس دنوں کے پاکستانی نژاد امریکی کے فیس بک سٹیٹس سے ماخوذ)

ہمارے آباؤ اجداد جدی پشتی ثقافت و مذہب کے حسین امتزاج کے حامی رہے ہیں اور یہی اقدار ہماری آجکل کی نسل میں بھی پایی جاتی ہیں جو کہ ٹیکنالوجی کے آنے سے رفتہ رفتہ ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ لوٹہ جو کہ اٹھارہویں صدی سے قبل مٹی کا بنا ہوتا تھا ہمارے مذہب اور ثقافت سے چولی دامن کا رشتہ رکھتا ہے اور اگر اسے یو ایس بی باتھ روم کہا جایے تو بے جا نہ ہوگا۔ پرانے زمانے میں جب پیری اور مریدی کا زمانہ ہوا کرتا تھا تو لوٹا استادی اور شاگردی کے رشتے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوتا تھا۔ یعنی تابعفرمان شاگرد وہی تصور کیا جاتا تھا جو اپنے استاد محترم جناب قبلہ و کعبہ کے لیے لوٹہ بھر کر رکھے او جہاں پر ضرورت ہو اس مقام تک بھی پہنچائے۔ ہمارے بزرگ بھی اسی ریت کو پالتے ہویے اس دنیا سے فنا ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے جانے سے لوٹے کے ساتھ ہمارا جذباتی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی لگاؤ ہرگز نہیں ٹوٹا بلکہ یوں کہیئے کہ اکیسویں صدی میں تو لوٹا جدید خطوط پر استوار ہوکر ہماری ثقافتی تشنگی اور ہمارے سنسکار کو زندہ رکھے ہویے ہے۔ اسکے علاوہ ہماری سلطنت خداد میں تو یہ لوٹا کئی سیاستدانوں کی پہچان بن چکا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں لوٹہ اکثر مساجد تک ہی محدود رہتا ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے پنڈوں، چک، اور گراں میں تو یہ کھیتوں میں پاخانے والی جگہ تک پہنچ گیا ہے۔ لوٹہ ترکی میں بھی استعمال کیا جاتا ھے گو کہ ترکی کا کچھ حصہ یورپ میں آتا ہے لیکن وہ پھربھی  اپنے بڑوں کے افکار نہیں بھولے۔ لوٹہ بحثیت برتن تو سب کی سمجھ میں آتا ہے لیکن سیاست میں لوٹہ کوئی اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ انگلش زبان کے لفظ ہارس ٹریڈنگ کو نیم انگریزی زبان میں لوٹہ کریسی کہتے ہیں جسکا مطلب ایک سیاسی پارٹی میں نہ ٹکنا ہے۔ بآلفاظ دیگر لوٹہ اس بندے کے لئے استعمال ہوتا ہے جو آج ایک سیاسی پارٹی کے آگے جارہا ہو تو کل دوسری پارٹی کے پیچھے ہو۔ اور یوں تو سارے سیاست دان تقریبن لوٹے ہی ہیں۔

من حیث القوم بشمول میرے ہمارۓ ہاں منفی ذہنیئت ایک رواج ہے جو کہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اور اگر کوئی زم زم سے نہا کربھی آجائے تو وہ ہمیں ایک اچھے انسان کی روپ میں قبول نہیں۔ ہمارے ساتھ کوئی کتنا ہی بھلا کیوں نہ کرے ہم یہ سوچ کر کہ شائد میں اس کے کسی کام آرہا ہوں یا ا سکو مجھ سے کوئی مطلب ہے اسکی ساری کاؤش پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں منفی گماں کا رواج اتنا عام ہوگیا ہے کہ ہم جب کسی سیمینار، ورکشاپ، کلاس یا ڈیبیٹ وغیرہ میں حصہ لیتے ہیں تو اس میں ہمارا سارا رجحان منفی باتوں کی طرف ہی ہوتا ہے اور یہی پٹی ہمیں ہمارا میڈیا بھی پڑھا رہا ہے حکومت کتنا بھی اچھا کام کرے لیکن دو تین ہیڈ لائنز تو اسکے خلاف جانی ہی جانی ہیں۔

 

معذرت قاری صاحب ہم لوٹے کو چھوڑ کر بہت دور چلے گئے تھے۔ تو ہم بات کر رہے تھے کہ اسلامی کہانیوں اور روایتوں میں بھی لوٹے کا کثرت سے ذکر ہے جس سے لوٹے کے ساتھ ہماری وابستگی اور بھی جنونی ہوجاتی ہے۔ لیکن کچھ تکنیکی ترقی کی بنا پر لوٹا ہمارے معاشرے کے کچھ حصوں تک محدود ہوگیا ہے۔ مسلم شاور ایک ایسی ایجاد ہے جس نے لوٹے کی حاجت کو رفع کیا جاسکتا ہے او لوٹے سے لی جانی والی خدمات اس سے لی جاسکتی ہیں۔ مسلم شاور اکثر و بیشتر، ترقی یافتہ، ترقی پزیر اور غیر ترقی پزیر ممالک میں یکساں طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اتنی ہم اہنگی، ثقافتی اور جذباتی لگاؤ کے باوجود اگر بندہ امریکہ جیسے ترقی، ترقی یافتہ ملک میں جائے اور انکی ترقی کو دیکھ کر بندہ اور بھی اپنے احساسات اور جذبات کے پہاڑ کو طول دیکر بیت الخلا، واش روم یا باتھ روم چلا جایے اور وہاں ایک، فقط ایک ، محظ ایک لوٹا نہ ہو تو کیا تعجب نہ ہوگا ۔۔۔۔

اگر مجھے کوئی پاکستان سے لیکر امریکہ تک کا مفت چکر لگواسکتا ہے تو کیا وہ وہاں واش روم میں میرے لیے ایک لوٹا تک نہیں رکھ سکتا۔ بھائی مجھے تو گلہ ہے کیونکہ وہ مجھے تبادلہ ثقافت پروگرام کے تحت لے کے جارہا ہے تو کیا اسے میرے لوٹے والی ثقافت کا نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔ یا پھر میں ویسے ہی اسکی اچھائی کو مٹی میں ملانے کی خاطر بات کا بتنگڑ بنا رہا ہوں ؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s