صحافتی سیاست کی اجارہ داری

download

وہ حضرات جن کو آپ کیمروں پر دیکھتے ہیں، اخباروں میں پڑھتے ہیں اور ریڈیو پر سنتے ہیں اسی صحافی  بندے کی کبھی نجی زندگی دیکھنے کا اتفاق شائد ہی اپ کو ہوا ہو۔ لوگ اس طبقے کې پیشہ ورانہ زندگی کو تو ہر وقت تصور کرتے ہیں اور ان پر تنقید کے تیرچلاتے ہیں اور تائید کے پھول بھی نچاور کرتے ہیں لیکن کیا کبھی آپ نے ان کو معاشرے کا حصہ گردانہ ہے؟ کیسے گردانیں جی، ادھر تو کتابوں اور سیمیناروں میں ایک یہی بات ہوتی ہے کہ صحافی کے کوئی جزبات نہیں اس کی اپنی کوئی سوچ نہیں اس کے لئے کوئی برا یا بھلا نہیں ہے کیونکہ جناب نے اپنے دیکھنے، سننے اور پڑھنے والوں کو اوبجیکٹیو(objective) رپورٹ پیش کرنی ہے جس میں صحافی کی اپنے نہ تو کوئی جزبات ہونگے اور نہ ہی اسکی کوئی مرضی ہوگی۔ ذرا سوچئے ایک شخص اٹھ سے دس سال اوبجیکٹیو رپورٹنگ کرتا ہے، مطلب لوگوں کۍ لاشوں پر سے گزرتا ہے، لوگوں پر ظلم ہوتے دیکھتا ہے، لوگوں کی عصمتیں لٹتی دیکھتا ہے غریب کے منہ سے نوالہ چھنتے دیکھتا ہے لیکن وہ صرف رپورٹ کرتا ہے اور بس،،،

کیا ایسے میں صحافی برادری کے جزبات ان کے احساسات مجروح نہیں ہونگے؟ کیا دس سال بعد وہ صحافی کسی کے آنسوں کے پیچھے چھپی داستان کا احاطہ کرسکے گا؟ کیا اسکی نجی زندگی اوبجیکٹیو رپورٹنگ کر کرکے سبجیکٹیو رہ سکتی ہے؟ نہیں کبھی نہیں۔۔۔ ارے بھائی ہم تو روبورٹ بن جاتے ہیں۔ ساری زندگی پانچ ڈبلیوز اور ایک ایچ کے پیچھے گزارنے والے کے ذہن میں تخلیق کے لئے کوئی جگہ نہیں بچی۔ ہمارا نوز فار نیوز اتنا بڑا ہوچکا ہوتا ہے کہ جزبات اور احساسات سے بھری کہانیاں اسکے پیچھے نظر ہی نہیں آتی۔ کیا یہ مخصوص طرز کی رپورٹنگ آپکۍ صحافی برادری کو یہ احساس نہیں دلاتی کہ ہمیں دانستہ طور پر ایک سانچھے میں ڈھالاجارہا ہے جہاں ہم ہماری خوشیاں ہمارا سکون ہمارے جذبات بھی چھن جاتے ہیں۔ ہم ایک نارمل آدمی کی طرح زندگی تو درکنار ہم عام آدمی کی طرح سوچ بھی نہیں سکتے۔ کیا اس روپرٹنگ کے مخصوص طرز تحریر کے دلدل میں ہم سے روزمرہ کی خوشیاں و احساسات بٹورے نہیں جارہے ؟

اوبجیکٹیویٹی کیا ہے۔ امپارشل اور ان بائسڈ اپورٹنگ،،، یہی ہے نا،،، چلیں ایک مثال میں اسے گردانتے ہیں ذرا۔۔۔

شمالی وزیرستان میں ایک ڈرون حملہ ہوتا ہے القاعدہ کا ایک اہم لیڈر مارا جاتا ہے اور اسکے کئی افراد بھی مارے جاتے ہیں۔ ہمارے موجودہ طرز تحریر کے تحت تو خبر یہی ہے کہ شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیاروں کے حملے میں القاعدہ کا ایک اہم کارکن مارا گیا ہے۔ اس میں اہم خبر بھی آگئی اور واقعہ کی اطلاع بھی۔۔۔ ایسا ہی ہے نا۔۔؟

چلیں اب اسے زرا اور پنپتے ہیں صحافت کے بین الاقوامی معیار میں۔

جناب ڈرون ایک سبجیکٹ ہے اور وہ جو کرتا ہے ہم اسے رپورٹ کرتے ہیں جو کہ سبجیکٹیویٹی میں آتا ہے۔۔۔ کیونکہ حملہ تو سبجیکٹ نے کیا ہے اور آپ نے حملہ ہو بہو ویسا ہی رپورٹ کیا جیسا کے ڈرون کے ارباب بست و کشاد چاہتے ہیں۔ اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اوبجیکٹیو رپورٹنگ کی۔ لیکن جناب یہاں آپ سبجیکٹ کے موقف کا حصہ بنے ہیں، سوچ لیجیے۔۔۔؟

جناب کبھی ایک سائکیٹریسٹ ڈاکٹر کے کلینک جا کے پوچھ لینا کے شمالی وزیرستان سے کتنے نفسیاتی مریض انکے پاس اس ڈر اور خوف کو دور کرنے کی آس لے کے آتے ہیں۔ کتنے ایک ایسے بچے ہیں جو کہ باہر کھیلنے کودنے سے کتراتے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جو ڈرون کی آواز سن کر چھپتے ہیں اور رونے لگتے ہیں۔ کتنې ایسۍ خواتین ہیں جو ڈرون کی وجہ سے بیوہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ کتنے بچے یتیم ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس بچے کا کبھی سوچا ہے جس کا باپ ڈرون حملے میں مارا گیا ہو وہ بھی القاعدہ کے لیڈر کو مارنے کی آڑ میں، اسکا کوئی زاتی قصور نہ ہو۔ کیوں بھائی ہم کیوں سوچیں،،، سوچنا تو سامعین کا کام ہے یہ درد محسوس کرنے کا آلہ تو ہمارے جسموں میں بے کار کردیا گیا پے۔ جو سوچ و فکر ایک صحافی کو ایسے موضوعات پر رپورٹ کرنے پر مجبور کرتی ہے اسے توہم نے اوبجیکٹیو رپورٹنگ سے مار دیا ہے۔ اور اوبجیکٹیو رپورٹنگ کی آڑ میں سبجیکٹیو رپورٹنگ کا حصہ بنتے رہے ہیں۔

کیا میں اور تم کوئی آزاد طرز تحریر کے متحمل نہیں ہوسکتے کیا یہ آیئڈیاز تجاویز سانچے اور ایتھیکس صرف مغرب ہی سوچ سکتا ہے؟  کیونکہ وہ لوگ سوچ میں آزاد ہیں۔ ہمیں تو کبھی سبجیکٹیویٹی اور ایتھیکس میں جھکڑا جاتا ہے اور کبھی نیشنل انٹرسٹ کے زمرے میں حبس بے جا میں مقید زندگی گزارنے کا ڈر رہتا ہے۔

ہماری رہی سہی اوبجیکٹیویٹی تو سبجیکٹیویٹی کے زمرے میں آگئی سو ہم ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک پارٹی کا حصہ بن رہے ہیں جو کہ صحافت کے کائناتی آئین کے خلاف ہے۔سوات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی کو رپورٹ کرنے کا موقع ملا ہو تو شائد انہیں پتہ ہو کہ اوبجیکٹیو رپورٹنگ کی کیسے دھچیاں اڑائی جاتی ہیں۔ شائد یہ ہمارا احساس، ھمارے جذبات اور ہمارا ضمیر ہی ہوتا ہے جو ہمیں تصویر کا دوسرا رخ دکھانے پر آمادہ کرتا ہے۔ اور اس مد میں کئی صحافی لقمہ اجل بھی بن چکے ہیں اور کئی کو موت کا منظر بھی دکھایا گیا ہے لیکن ابھی بھی ہمارے ہاں اوبجیکٹیو رپورٹنگ کی حقیقت کوئی بھی نہیں جان پایا۔ صحافتی برادری سے التماس ہے کہ اتنے بھی اوبجیکٹیو نہ بنیں کہ خدا نخواستہ آپ کے گھر پر حملہ ہو اُپ کے ہاں کیجولٹیز ہوئیں ہو اور آپ اسکو بھی اپنی طرف سے رپورٹ نہ کرسکیں بلکے کسی ڈاکٹر یا سیکيورٹی ادارے کے زمہ دار افسر کے منہ سے کہلوائیں کے فلاں جگہ اېک گھر پر حملہ ہوا جسمیں  اتنے افراد جان بحق اور اتنے زخمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s